چھٹیوں کے دنوں میں گھریلو تشدد کے علامات کی نشاندہی

 In Domestic abuse, Domestic violence

چھٹیاں گھر والوں اور دوست اہباب کے ساتھ ملنے اور وقت گزارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ البتہ جو لوگ گھریلو تشدد کا سامنا کر رہے ہوں، انکے لیےیہ وقت باعث پریشانی بن سکتا ہے۔

گھریلو زیادتی کرنے والوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے نشانے کو گھر والوں اور دوست اہباب سے دور رکھنے کے لیے مختلف ہربے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح مظلوم کے لیے مدد مانگنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ چھٹیوں کے دنوں کا دباؤ، اکژ باعث خلش اور تشدد بن جاتا ہے ، جسکی وجہ سے تشدد کے نشان زیادہ واضح ہو جاتے ہیں چاہے وہ جسمانی ہوں یا زہنی۔ گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین میں سے اکثر کے لیے چھٹیوں کے دن اپنے دوست اہباب سے ملنے اور اپنی تنہائ سے نکلنے کا واحد موقع ہوتے ہیں۔

چنانچہ،ہمیں چاہیے کہ ہم ان دنوں میں گھریلو تشدد کی علامات کے بارے میں چوکس رہیں ، تاکہ ہم اپنے اُن عزیز و اقارب کی مدد کر سکیں جو اس ظلم کےخلاف خاموش جنگ لڑ رہے ہیں۔

گھریلو تشدد کی علامات

کیا آپکے عزیز کا رویہ آپکو پریشان کر رہا ہے؟ کیا آپکو محسوس ہو رہا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں؟ کیا آپکا عزیز:

  • اپنے شوہر یا گھر والوں کے سامنے کشیدہ، اور بول چال میں ضرورت سے زیادہ محتاط دکھائ دے رہا ہے؟
  • ضرورت سےزیادہ پریشان دکھائ دے رہا ہے؟
  • مایوس دکھائ دے رہا ہے؟
  • کیا اسکا شوہر بات بات پر اسکی توہین اور تنقید کر رہا ہے؟
  • کیا وہ زہنی اور جسمانی طور سے جدا دکھائ دے رہا ہے؟
  • کیااس نے جسم کے وہ حصے بھی ڈھکےہوےٴجنہیں وہ عام طور پر نہیں ڈھکتی؟

یاد رکہیں کہ تشدد کرنے والا شخص کا مظلوم کے گھر والوں کے سامنے رویہ قابل رشق ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اس بات کی یقین دیہانی کر لیتا ہے کہ اگر مظلوم اپنے ساتھ ہونے والا تشدد کا ذکر کسی سے کر بھی لے، تو کوئ اسکی بات پر یقین نا کرے۔ وہ یہ سب مظلوم کے اوپر اپنا قابو مظبوط رکھنے اور اسکو مدد حاصل کرنے کے مواقع سے دور رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ اس بات کا دیہان رکھیں کہ تشدد کرنے والے شخص بہت مشکل سے بدلتے ہیں، چنانچہ آپ انکے ظاہری رویے سے دھوکا نہ کھائیں۔

اگر آپکو لگ رہا ہے کے آپکا عزیز تشدد کا نشان بن رہا ہے تو:

  • انہیں الگ کمرے میں لیجا کرانسے اکیلے میں بات کریں
  • اگر وہ آپ کو اپنی صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیں تو انکی بات کوبِلا دخل اور اطمینان سے سنیں
  • اُن پر تشدد کرنے والے کو بُرا بھلا کہنے سے گریز کریں، البتہ یہ ضرور واضح کریں کہ تشدد کرنے والے کا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔
  • گفتگو کا انداز حساس رکھیں تاکہ مظلوم کا احساسِ شرمندگی مزید نہ بڑھے۔ یاد رکہیں کہ انکو اس بات کا خوف بھی ہو سکتا ہے کہ آپ سے بات کرنے کے نتیجے سے انہیں یا آپکو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
  • جلد بازی نا کریں اور انہیں بات مکمل کرنے کا وقت دیں۔ یاد رکھیں کہ تشدد کرنےوالے کی طرف سے انہیں اپنی جان یا اولاد چھن جانے کا ڈر ہو۔
  • انکو سمجھائیں کہ وہ بے قصور ہیں کیونکہ تشدد کرنے والے اکژ مظلوم کی عادات کو اپنے رویے کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں، اور اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ در حقیقت وہ انکے خیر خواہ ہیں۔
  • اگر آپکا عزیز اپنے شوہر سے محبت کا اظہار کرے تو اسکی بات کو قبول کر لیں۔بعض اوقات تشدد کرنے والا شخص زیادتی کرنے کے بعد اپنے رویے میں پیاراور مروت لے آتا ہے، جس سے مظلوم کو لگتا ہے کہ در حقیقت یہ انکا اصلی روپ ہے۔ایسے حالات میں تشدد کرنے والے کو بُرا بھلا کہہ کر آپ مظلوم کی نظر میںاپنا مقام کھو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ آپ سےاس بارے میں مزید گفتگو نہ کرے۔
  • اُنہیں یقین دلائیں کہ آپ انکے ساتھ ہیں اور انسے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔

اگر آپکا عزیز تشدد کا نشانہ ہونے کا اعتراف نہ کرے

تو ہر گز اُن پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اُنہیں یقین دلائیں کہ آپ اُنکے ساتھ ہیں اور اگر اُنہیں آپکی ضرورت ہو تو وہ بِلا ہچکچاہٹ آپ سے رابطہ کر سکتی ہیں۔

اگلے اقدامات

تشددکا سامنا کرنے والا شخص ذہنی کشمکش میں مبظلا ہوتا ہے، جسکے باعث ممکن ہے کہ وہ اپنے شوہر کو چھوڑنے کے لئے رضامند نہ ہوں۔ ایسی صورت میں آپ انہیں ایسی تدابیر دیں جنہیں اپنا کر وہ تشدد کے واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔ کچھ سوال جو آپ یُن سے پوچھ سکتے ہیں:

  • وہ کیا تدابیر ہیں جنہیں اپنا کر وہ اپنے گھر میں مزید محفوظ محسوس کر سکتی ہیں؟
  • اگر انکے گھر میں کوئ ایسی جگہ ہے جہاں وہ خطرے کی صورت میں اپنے آپ کو محفوظ کر سکتی ہیں؟
  • جس کمرے میں انہیں اکژ تشدد کا سامنا کرنا پڑہتا ، کیا وہ اس میں تبدیلیاں لا کر، مثال کے طور پر نوکیلی اشیاء ہٹا کر اپنے آپ کو سنگین نقصان سے بچا سکتی ہیں؟
  • کےانکے گھر میں ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے راستے موجود ہیں؟
  • کیا گھر میں خطرناک اشیاء موجود ہیں جنہیں چھپا کر وہ زیادہ محفوظ محسوس کریں؟
  • ہنگامی حالات کی صورت میں کیا وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے عزیز و اقارب ےیا پولیس کو آگاہ کر سکتی ہیں؟
  • وہ کونسے سرکاری، غیر سرکاری اور سماجی ادارے اور افراد ہیں جنسے وہ مدد طلب کر سکتی ہیں؟

 

اِس کے علاوہ انہیں مشورہ دیں کہ ہنگامی حالات میں مشکلات سے بچنے کے لئے وہ اشیاءِضرورت کا ایک بیگ چھپا کر اپنے یا کسی قابلِ اعتماد شخص کے پاس رکھ دیں۔ اس بیگ میں :

  • ہوٹل میں رہائش کے لئے رقم
  • ٹیکسی کے کرایے کے لئے رقم
  • شناختی کاغذات، جیسے کہ انکا قومی شناختی کاڑد، نکاح نامہ، پاسپورٹ اور پیدائش کے کاغذات
  • چیک بک، جائداد کے کاغذات، نیز کوئ بھی ایسے دستاویزات جنہیں استعمال کرکے وہ اپنی مالی ہمایت کر سکتی ہیں

 

اگر آپکا عزیز اپنے شوہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا ہے، اُنکو مشورہ دیں کہ وہ:

  • کیا وہ اپنے شوہر کے خلاف “رسٹرینگ آرڈر” لے سکتی ہیں؟ (یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ہیں)
  • بچے ہونے کی صورت میں کیا وہ بچوں کی تحویل کے لئے قانونی اقدام اُٹھا سکتی ہیں؟
  • اگر وہ اپنے شوہر کا گھر چھوڑتی ہیں تو کیا انہیں اپنی حفاظت کے لئے پولیس کی مدد اور موجودگی درکار ہوگی؟ (یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ہیں)
  • اگر وہ اپنے پرانے گھر میں رہ رہی ہیں تو انہیں گھر کے دروازوں کے تالے تبدیل کرنے ہوں گے۔
  • شروع کے کچھ دنوں کے لئے کسی دوست یا رشتہ دار کو انکے ساتھ رہنا چاہئے
  • انکے بچوں کو گھر کا پتہ اور پولیس کا ہنگامی رابطہ معلوم ہونا چاہئے۔
  • انہیں اپنا ذاتی فون نمبر تبدیل کرنا چاہئے۔
  • اگر وہ نوکری پیشہ ہیں تو وہ اپنے کام کے اوقات تبدیل کر لیں اور اپنے ساتھیوں کو ہدایت دیں کہ وہ اُنکے بارے میں کوئ معلومات اُنکے شوہر کو نہ دیں۔
  • کام پر جانے کا راستہ تبدیل کر لیں
  • اگر شوہر تشدد کرنے میں ہد سے تجاوزکرنے کا عادی ہے تو اپنے بچوں کا اسکول بھی تبدیل کریں۔ ایسے حالات میں اسکول انتظامیہ کو مطلع کریں کہ انکے شوہر کو بچوں کو اپنے ساتھ لیجانے کی اجازت نہیں ہے۔
  • وہ اپنی اشیاءِضرورت خریدنے کی اور عبادات کی جگہ تبدیل کریں۔
  • اپنے ہمسایوں کو صورتِ حال سے آگاہ کریں اور انہیں ہدایت دیں کہ اگر انہیں خطرے کا انکشاف ہو تو فوراً پولیس کو مطلع کریں۔ البتہ اس بات کا یقین کر لیں کہ ہمسائے قابلِ اعتبار ہیں۔

اگر وہ اپنے شوہر کے خلاف قانونی کاروائ کرنے کا فیصلہ کریں، تو انکو بتائیں کہ وہ کس طرح

وکیل کی مدد کے بغیر گھریلو تشدد کا کیس بنا سکتی ہیں

Written by Mubashar, Mahnoor and Hera.

Recommended Posts